20 ستمبر، 2026، 12:14 PM

ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ کی مہر نیوز سے گفتگو:

خلیج فارس کے ممالک مضبوط ایران کے ساتھ ہم آہنگ ہوں، این پی ٹی سے نکلنے کا آپشن زیر غور ہے

خلیج فارس کے ممالک مضبوط ایران کے ساتھ ہم آہنگ ہوں، این پی ٹی سے نکلنے کا آپشن زیر غور ہے

ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ خلیج فارس کے جنوبی ہمسایہ ممالک کو یہ سمجھنا چاہیے کہ انہیں مضبوط ایران کے ساتھ تعاون اور ہم آہنگی اختیار کرنی ہوگی۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر ابراہیم عزیزی نے مہر نیوز کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کی صورتحال، ایران اور عمان کے درمیان معاہدے، جوہری پروگرام، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے کردار، این پی ٹی سے ممکنہ علیحدگی اور امریکہ سے مذاکرات کے امکانات پر گفتگو کی۔

ڈاکٹر عزیزی نے کہا کہ ایران اور عمان طویل عرصے سے خلیج فارس میں تجارتی جہازوں کی آمد و رفت اور بحری ٹریفک سے متعلق ایک معاہدے پر کام کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس معاہدے کا مقصد آبنائے ہرمز میں آمد و رفت کے معاملات میں ہم آہنگی پیدا کرنا ہے اور اس حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے بعد ایک اتفاق رائے بھی قائم ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ جغرافیائی محل وقوع آج طاقت پیدا کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے اور آبنائے ہرمز ایران کے لیے طاقت کا ایک غیر معمولی ذریعہ ہے۔ ایران کو اپنے قومی مفادات اور خطے کے ممالک کے جائز حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کی اس صلاحیت سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

عزیزی کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان ہونے والے معاہدے کو مسقط میں باضابطہ طور پر پیش کیا جانا تھا، تاہم عمان نے اس کی رونمائی مؤخر کردی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ خطے کے ممالک امریکی مفادات کے لیے کام نہیں کریں گے اور کہا کہ ایران خلیج فارس میں دوبارہ امریکی موجودگی کی اجازت نہیں دے گا۔

انہوں نے کہا کہ خلیج فارس کے جنوبی ہمسایہ ممالک کو ایک مضبوط ایران کے ساتھ تعاون اور اپنی پالیسیوں میں اس کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنی چاہیے۔

ایرانی رکن پارلیمنٹ نے مزید کہا کہ ایران نے عوامی طاقت، مسلح افواج، جغرافیائی محل وقوع، قومی اتحاد اور داخلی یکجہتی سمیت اپنی مختلف صلاحیتوں کے ذریعے اپنی طاقت اور اپنی دھمکیوں کو عملی شکل دینے کی صلاحیت دنیا کے سامنے ثابت کی ہے۔

عزیزی نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ طویل عرصے سے اپنے فنی اور تخصصی کردار سے ہٹ کر ایک سیاسی ادارہ بن گیا ہے۔ ان کے مطابق ایجنسی کو امریکہ جیسی طاقتوں کے دباؤ یا اثر و رسوخ کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے اور اسے اپنے بنیادی فرائض کے مطابق کام کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے اپنی ضروریات کے مطابق پُرامن جوہری صنعت کو ترقی دی ہے اور جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ایران نے اضافی پروٹوکول اور بعد ازاں جوہری معاہدے کے تحت مختلف ذمہ داریاں قبول کیں اور ان پر عمل درآمد کیا، اس لیے تہران توقع رکھتا ہے کہ دوسرے فریق بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کریں گے۔

این پی ٹی سے ممکنہ علیحدگی کے بارے میں عزیزی نے کہا کہ ایرانی پارلیمنٹ کے بعض ارکان نے اس حوالے سے باقاعدہ تجاویز تیار کی ہیں۔ ان کے مطابق ’’این پی ٹی سے خروج‘‘ کے عنوان سے ایک منصوبہ قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی اور مجلس کے قوانین میں موجود ہے اور اس پر متعدد ارکان کے دستخط بھی ہیں۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایران نے فی الحال این پی ٹی سے نکلنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ان کے مطابق اگر ملکی نظام کے متعلقہ ادارے اس نتیجے پر پہنچیں کہ این پی ٹی میں رکنیت ایران کے لیے فائدہ مند نہیں رہی بلکہ قومی مفادات اور سلامتی کو نقصان پہنچا رہی ہے تو ایران اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے دفاع کے لیے مناسب فیصلہ کرے گا۔

عزیزی نے کہا کہ جوہری صنعت ایران کے لیے طاقت پیدا کرنے والی صنعت ہے اور اس کا مقصد پُرامن ہے، تاہم اگر بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی یک طرفہ طور پر اپنا موجودہ طرز عمل جاری رکھتی ہے اور اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتی تو ایران، ایرانی عوام اور ایرانی حکام کی جانب سے سخت اور پشیمان کن ردعمل سامنے آسکتا ہے۔

News ID 1941510

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha